Billion Tree Tsunami Project and Status of Forest Department بلین ٹری پراجیکٹ اور جنگلات کا نظام

بلین ٹری پراجیکٹ اور جنگلات کا نظام

آج کل موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں بتدریج اضافے اور سیارہ زمین اور اس پر بسنے والے جانداروں پر اس کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے دنیا بھر میں جنگلات کی اہمیت اور جنگلات لگانے پر بہت توجہ دی جا رہی ھے، پاکستان میں خیبر پختونخواہ میں بلین ٹری پراجیکٹ کے بعد اس کا دائرہ کار اب پورے پاکستان میں پھیلایا جا رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت پاکستان کو سرسبز اور صاف ستھرا بنانے کے لئے میڈیا میں زور شور سے مہم چلائی جا رھی ھے، جنگلات ایک صوبائی معاملہ ھے اور ہر صوبے میں جنگلات کا نظام الگ ھے جو انتہائی پرانا اور پسماندہ ھے، برٹش دور کا فارسٹ ایکٹ 1927 آج بھی مستعمل ھے فارسٹ مینول بھی برطانوی دور کا ھی چلایا جا رہا ھے، اکاؤنٹنگ سسٹم بھی مینول ھے اور اکاؤنٹنٹ جنرل کے جدید کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ساتھ منسلک ھونے کی بجائے محکمہ جنگلات، ڈائریکٹر بجٹ & اکاؤنٹس کے ماتحت مینول نظام کے تحت کام کرتا ھے جس سے محکمہ میں شفافیت اور بہتری نہیں آ رھی، حکومت بلوچستان نے ایک شاندار اقدام کیا ھے اور محکمہ جنگلات کو اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ھے اور ڈائریکٹر بجٹ کا دفتر ختم کر کے محکمہ کو بوسیدہ مینول اکاؤنٹنگ سسٹم سے نکال کر جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ جوڑ دیا ھے اور کروڑوں روپے کی بچت بھی کی ھے، ضرورت اس امر کی ھے کہ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت محکمہ جنگلات کے ڈائریکٹر بجٹ & اکاؤنٹس دفتر ختم کر کے حکومت کروڑوں روپے بچائے اور محکمہ جنگلات کو اکاؤنٹنٹ جنرل کے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ماتحت کر کے محکمہ کو جدید اور شفاف بنائے تا کہ بلین ٹری جیسے میگا پراجیکٹ کو بہترین انداز سے کامیاب کیا جا سکے، موجودہ ڈائریکٹر بجٹ دفتر نہ تو وقت پر ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل ھے اور اکثر اوقات ملازمین کو تنخواہ بھی پوری نہیں ملتی اور کوئی نہ کوئی الاؤنس ڈائریکٹر بجٹ دفتر کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے اور بوسیدہ مینول اکاؤنٹنگ سسٹم کی وجہ سے تنخواہ سے کٹ جاتا ھے اور ملازمین کے لئے سخت پریشانی کا باعث بنتا ھے، اکثر پلانٹیشن کا بجٹ بروقت ریلیز نہیں ھوتا اور ڈائریکٹر بجٹ دفتر پیسے روک کے بیٹھا رہتا ھے اور بجٹ نہ ملنے سے پلانٹیشن ناکام ھو جاتی ھے اور پھر اس ناکامی کا ذمہ دار فیلڈ ملازمین کو قرار دیکر انہیں پیڈا ایکٹ کے تحت ریکوری ڈال دی جاتی ھے اور ان کی تنخواہ سے ماہانہ کٹوتی شروع کر دی جاتی ھے، یہ ساری صورتحال فیلڈ ملازمین کے لئے سخت پریشان کن ھے لیکن حیرت انگیز طور پہ سینئر فارسٹ آفیسرز کی طرف سے آج تک اصلاح احوال کے لئے کوئی تجویز حکومت کو نہیں دی گئی بلکہ وہ اس سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں اور محکمہ جنگلات میں کسی قسم کی اصلاحات کی سخت مخالفت کرتے ہیں جو ایک بڑا سوالیہ نشان ھے کہ محکمہ جنگلات تیزی سے زوال پذیر ھے تو محکمہ کو لیڈ کرنے والے کیوں خاموش ہیں اور حکومت کو اصلاحات کے لئے قائل کرنے کی بجائے خاموشی کیوں اختیار کئے ھوئے ہیں؟ پنجاب فارسٹرز/فارسٹ گارڈز ایسوسی ایشن مسلسل حکومت اور محکمہ جنگلات کے ذمہ داران کو سسٹم میں اصلاحات اور اصلاح احوال کے لئے اپنی تجاویز پیش کر رھی ھے لیکن حکومت اور محکمہ کے سینئر آفیسرز اس کی شدید مخالفت پر کمر بستہ ہیں اور صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے تھے ہیں، جس کا واضح ثبوت یہ ھے کہ ایسوسی ایشن کی طرف سے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ، سیکریٹری جنگلات کی طرف سے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ قبل منظور کئے جانے کے باوجود بھی اس کی کسی ایک شق پر عملدرآمد نہیں کیا گیا بلکہ فارسٹ آفیسرز کی طرف سے اس کی مخالفت تاحال جاری ھے اور فیلڈ سٹاف زبوں حالی کا شکار چیخ رہا ھے، افسوس اس بات کا ھے کہ تبدیلی سرکار بھی جنگلات پر بہت توجہ دے رہی ھے لیکن محکمہ جنگلات میں درکار بنیادی اصطلاحات کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی اور صرف بیانات سے کام چلا رہی ھے، پنجاب میں 9 کروڑ انسان اور کروڑوں مویشی پنجاب کے %8۔2 جنگلات پر انحصار کرتے ہیں جسکی وجہ سے جنگلات کے محدود ذرائع پر بہت دباؤ ھے
بااثر لوگوں کی سپورٹ، الیکٹرک آروں، گاڑیوں اور اسلحہ سے لیس ٹمبر مافیا سے ان جنگلات کو محفوظ رکھنے کے لئے محکمہ جنگلات نے 3500 نہتے اور پیدل فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز تعینات کر رکھے ہیں۔
ایک فارسٹ گارڈ/فارسٹر کے پاس اوسطاَ 100 سے 500 کلومیٹر لمبی نہروں/سڑکوں کے کنارے موجود درختوں یا 500 سے 2000 ایکڑ جنگل کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری ھوتی ھے جس کے لئے وہ 24/7 راؤنڈ دی کلاک زمہ دار ھوتے ھیں، جنگل میں مسلسل باقاعدگی سے پیٹرولنگ کرنا اور نقصان جنگل کی صورت میں ڈیمیج رپورٹ کے ذریعے اپنے بلاک آفیسر کو آگاہ کرنا فارسٹ گارڈ کی بنیادی ڈیوٹی ھے۔ یہ قیمتی جنگل وسیع علاقے میں بکھرے ہوتے ہیں جس پر ٹمبر مافیا کی نظر ھوتی ھے لیکن اس کی حفاظت ایک اکیلے،نہتے اور معمولی تنخواہ لینے والے فارسٹ گارڈ اور فارسٹر کی ذمہ داری ھے جن کے لئے ٹمبر مافیا کا مقابلہ کرنا ناممکن ھے یہ ان بے بس ملازمین کے بس کی بات نہیں رہی، ان کے پاس نہ کسی قسم کی کوئی سواری ھے نہ ھی کوئی اسلحہ فراہم کیا جاتا ھے، نہ کوئی فکس ٹی۔اے/ڈی۔اے اور نہ پیٹرول دیا جاتا ھے۔ صرف معمولی تنخواہ ملتی ہے اور ذاتی خرچ پر پیٹرولنگ کرنا پڑتی ھے جس سے تنخواہ جنگل کے گشت میں خرچ ھو جاتی ھے۔ یہی بنیادی وجہ ھے کہ سرکاری جنگلات بہت بے دردی سے اور تیزی سے کاٹے جا رھے ہیں، خشک، گرے پڑے اور سپرداری میں رکھے درختوں کی نیلامی کا عمل اس قدر مشکل بنا دیا گیا ھے کہ کئی سالوں سے ان کی نیلامی ھی ممکن نہیں ھو سکی اور یہ کروڑوں روپے کے خشک درخت ٹمبرمافیا کا خاص ٹارگٹ ہیں جس کی وجہ سے فیلڈ سٹاف کی مشکلات میں بہت اضافہ ہو گیا ھے اور قیمتی درخت ضائع ھو رہے ہیں اور لکڑی کو دیمک کھا رھی ھے اور گل سڑ رھی ھے،
سب سے بنیادی اور اہم مسئلہ یہ ھے کہ محکمہ جنگلات میں پراسیکیوشن سسٹم غیر قانونی طور پر معطل ھے کیونکہ اس کا کوئی تحریری آرڈر کسی اتھارٹی نے جاری نہیں کیا، فارسٹ آفیسرز ڈیمیج رپورٹس کی پراسیکیوشن نہیں کرتے لیکن اس بات کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہیں لیکن عرصہ دراز سے خالی پی۔سی رجسٹر اس بات کی گواہی ہیں کہ ڈیمیج رپورٹس کی پراسیکیوشن عرصہ دراز سے بند ھے، نقصان جنگل کرنے والے کو کوئی سزا اور جرمانہ نہیں ھو رہا کیونکہ فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز کی ڈیمیج رپورٹس کو محکمہ کی طرف سے عدالتوں میں نہیں بھیجا جا رہا، نقصان جنگل ھو جائے تو ملزمان سے جرمانہ وصول کرنا بھی فارسٹرز اور فارسٹ گارڈز کی ذمہ داری ھے، فارسٹ گارڈ ڈیمیج رپورٹ کاٹے یا ملزم کے خلاف پرچہ پولیس دے پھر بھی آفیسرز کی طرف سے زبانی احکامات ہیں کہ نقصان جنگل کا جرمانہ ہر حال میں ملزمان سے وصول کریں یا اپنی جیب سے جمع کروائیں ڈیمیج رپورٹس عدالتوں کو بھیجی نہیں جا رہی اس لئے فارسٹرز اور فارسٹ گارڈز کے لئے ملزمان سے جرمانہ وصول کرنا ھی واحد راستہ ھے جو ٹمبر مافیا سے وصول کرنا ناممکن ھے، جرمانہ نہ ملنے کی وجہ سے ملزمان کے خلاف ڈیمیج رپورٹ اور پرچہ پولیس کے باوجود فارسٹ گارڈ اور فارسٹر کو نقصان جنگل کا زمہ دار قرار دیا جاتا ھے، اور لاکھوں اور کروڑوں کا نقصان فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز کی تنخواہوں سے پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت Inefficiency & misconduct کے چارج لگا کر ماہانہ کٹوتی کر کے پورا کیا جاتا ھے اور محکمہ اسے اپنی آمدنی ظاہر کرتا ھے اربوں روپے کی یہ ریکوری فیلڈ سٹاف کی تنخواہوں سے کی جا رہی ھے اور محکمہ اسے اپنی آمدنی ظاہر کرتا ھے جس کا تمام ریکارڈ ہر فارسٹ ڈویژن کے پیداوار جنگل کے فارم 11 میں درج ہے، محکمہ جنگلات پنجاب کے 30 فارسٹ ڈویژن میں سے ملازمین کی تنخواہوں کا چارٹ اور فارم 11 کا ریکارڈ 2006 سے 2018 تک منگوا کے دیکھا جائے تو اس شدید ظلم اور زیادتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے جو ان آفیسرز نے ان فیلڈ ملازمین اور ان کے بچوں پر کیا ہے، پیڈا ایکٹ کا اس طرح بے رحم اور جابرانہ استعمال صرف محکمہ جنگلات پنجاب کے آفیسرز کر رہے ہیں جو سراسر غیر قانونی ھے اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ھے۔ کوئی خوش قسمت فارسٹ گارڈ اور فارسٹر ھو گا جس کو مکمل تنخواہ ملتی ھے ورنہ سب کی تنخواہوں سے کٹوتی کر کے محکمہ اسے اپنی آمدنی ظاہر کرتا ہے،
ھم اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پنجاب کے جنگلات سے قیمتی درخت لاکھوں کی تعداد میں غائب ھو چکے ہیں جن کی جگہ پہ اب نئے چھوٹے پودے یا زیبائشی پودے لگا دیئے گئے ہیں اور معاملہ دبا دیا گیا ھے، محکمہ جنگلات کو آج بھی برطانوی دور کے قانون کے تحت چلایا جا رہا ھے جو آج کے دور میں موثر نہیں ہیں۔ لاکھوں روپے کی چوری کرنے والے کو عدالت چند سو روپے جرمانہ کر کے چھوڑ دیتی ہے جس کی وجہ سے لکڑی چوروں اور ٹمبر مافیا کو روکنا نا ممکن ھو چکا ہے اور وہ بے خوف و خطر نقصان جنگل کرتے ہیں اور محکمہ جنگلات پنجاب سوائے اپنے ملازمین کو ریکوری اور سزائیں دینے کے کچھ نہیں کر پا رہا،
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام صوبوں کے محکمہ جنگلات کے نظام کا تقابلی جائزہ لیا جائے اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں تبدیلی کر کے اسے بہتر بنایا جائے تا کہ لکڑی چوروں اور ٹمبر مافیا کو سخت سزا ملے اور ان کی حوصلہ شکنی ھو۔
دوران ڈیوٹی فیلڈ سٹاف کو ذاتی اسلحہ رکھنے کا پرمٹ جاری کیا جائے۔ محکمہ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ محکمہ جنگلات کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ھوئے پرچہ پولیس درج کیا جائے تا کہ ملزمان سے جرمانہ اور لکڑی ضبط کر کے جنگلات اور قومی وسائل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس سال نقصان جنگل کے بھاری جرمانوں کا نیا شیڈول آنے سے فیلڈ سٹاف میں شدید تشویش پائی جاتی ھے کیونکہ سسٹم کے نقائص اور کمزوریوں کے باعث ملزمان جرمانہ نہیں دیتے اور نہ انہیں سزا ھوتی ھے اور یہ نقصان پیڈا ایکٹ لگا کر فیلڈ سٹاف کی تنخواہوں سے ماہانہ کٹوتی کر کے پورا کیا جائے گا۔
2006 میں ریکارڈ درختان مرتب کیا گیا، اس کے بعد سے نئے رجسٹر درختان نہیں بنائے گئے وہی پرانا ریکارڈ چل رہا ھے حالانکہ ہر پانچ سال کے بعد نیا ریکارڈ بنانا ضروری ھے۔
ہم عرض گزار ہیں کہ پنجاب میں جنگلات کی تباہی کے عوامل کی تحقیقات کی جائیں اور پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی، محکمہ جنگلات پنجاب کے زمہ داروں کو کمیٹی کے اجلاس میں طلب کر کے تمام معاملات کی تحقیق اور تفتیش کرے اور حکومت کو اصلاح احوال کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے تا کہ ہزاروں چھوٹے ملازمین اور انکے بچے اس معاشی دہشت گردی سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتیں جنگلات کی ترقی اور فروغ کے لئے وقف کر سکیں،

SEE ALSO:  Takwara D.I. Khan | Domanzi Karak| Kashoo Bannu | Gambila | Barati Machankhel | Adami Tortala Bannu | Billion Tree Tsunami Program

Writer Unknown

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Facebook
Facebook
Follow by Email
YouTube
YouTube